یہی ہونا تھا اور ہوا جاناں
ہو گئے ہم جدا جدا جاناں
کوئی آساں نہ تھی تِری فرقت
میں حقیقت میں رو پڑا جاناں
تِرے اندر ہوں میں ہی میں ہر سو
ہنس کے ملتا ہے ہر کوئی ایسے
جیسے ہر شخص ہو خفا جاناں
اب میں چلتا ہوں چل خدا حافظ
شہر یہ وہ نہیں رہا جاناں
عارف اشتیاق
No comments:
Post a Comment