رات بھر رات سہی جاتی ہے
نیند آنکھوں سے بہی جاتی ہے
کون آئے گا؟ کوئی بھی تو نہیں
زندگی ڈھلتی چلی جاتی ہے
آسمانوں سے کی گئی فریاد
تہہ در تہہ دبی جاتی ہے
وہ جو لکھی نہیں کہیں پر بھی
وہ عبارت بھی پڑھی جاتی ہے
آپ فتنہ پسند ہیں، میں بھی
جنگ ایسے ہی لڑی جاتی ہے
یاد آؤ نہ اس قدر ہم کو
حرکتِ قلب رُکی جاتی ہے
عارف اشتیاق
No comments:
Post a Comment