Thursday, 15 October 2020

رات بھر رات سہی جاتی ہے

 رات بھر رات سہی جاتی ہے

نیند آنکھوں سے بہی جاتی ہے

کون آئے گا؟ کوئی بھی تو نہیں

زندگی ڈھلتی چلی جاتی ہے

آسمانوں سے کی گئی فریاد

تہہ در تہہ دبی جاتی ہے

وہ جو لکھی نہیں کہیں پر بھی

وہ عبارت بھی پڑھی جاتی ہے

آپ فتنہ پسند ہیں، میں بھی

جنگ ایسے ہی لڑی جاتی ہے

یاد آؤ نہ اس قدر ہم کو

حرکتِ قلب رُکی جاتی ہے


عارف اشتیاق

No comments:

Post a Comment