عجیب دن ہیں مِرے اور عجب اداسی ہے
تِرے بغیر مِرے یار، سب اداسی ہے
مجھے نواز کوئی ہجر سے بھرا ہوا عشق
میں وہ فقیر ہوں جس کی طلب اداسی ہے
کبھی کبھی تو الف لام، میم کھلتا ہے
کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے، رب اداسی ہے
ہماری مستی الستی، ہمارا سوگ بہشت
ہمارے ہونے کا شاید، سبب اداسی ہے
اک اور لہر بھی ہوتی ہے، لہر کے اندر
اسی لیے تو میاں زیر لب، اداسی ہے
تِری کمی کا بھی اب دن منائیں گے ہم لوگ
اور اس کا نام رکھیں گے غضب اداسی ہے
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment