ضبط گریہ یوں آزمائیں گے
ذکرِ جاناں پہ مسکرائیں گے
تُو اگر لوٹ کر بھی آ جائے
ہم تجھے منہ نہیں لگائیں گے
بات کر لیں گے ہم پرندوں سے
اور پیڑوں کو دُکھ سنائیں گے
وحشتیں ابر بن کے چھائیں گی
ٹُوٹ کر اشک ہم بہائیں گے
خون تھوکیں گے ہجر راتوں میں
درد میں قہقہے لگائیں گے
بالکونی پہ بیٹھ کر تنہا
ہم تیرے گیت گنگائیں گے
تجربہ ایک ہم کو کافی ہے
دل مکرر نہیں لگائیں گے
تنزیلہ مہروی
No comments:
Post a Comment