Sunday, 11 September 2022

ہونٹوں کے گلاب جب بھی کھلا کرتے

 حرف نور


ہونٹوں کے گلاب جب بھی

کھلا کرتے

ادا ہوتے تھے جو الفاظ

میں ان کو چوم لیتا تھا

پتہ ہے

جیسے ہیرے چاندنی میں

کوئی پھینک دیتا

تو تارے رشک کرتے

ان کی نورانی اداؤں پر

میں انساں ہوں

مجھے بھی سوجتا ہے

ایسا کرنا

کیونکہ

یہ الفاظ موتی ہیں

چن چن کر

ادا ہوتے ہیں

دلبر کے دہانے سے


فاروق شاہین

No comments:

Post a Comment