حرف نور
ہونٹوں کے گلاب جب بھی
کھلا کرتے
ادا ہوتے تھے جو الفاظ
میں ان کو چوم لیتا تھا
پتہ ہے
جیسے ہیرے چاندنی میں
کوئی پھینک دیتا
تو تارے رشک کرتے
ان کی نورانی اداؤں پر
میں انساں ہوں
مجھے بھی سوجتا ہے
ایسا کرنا
کیونکہ
یہ الفاظ موتی ہیں
چن چن کر
ادا ہوتے ہیں
دلبر کے دہانے سے
فاروق شاہین
No comments:
Post a Comment