Sunday, 11 September 2022

آتے جاتے کو آنا پڑتا ہے

 آتے جاتے کو آنا پڑتا ہے

راہ میں آستانہ پڑتا ہے

تان لی ہے کماں غزالوں پر

دیکھیے کب نشانہ پڑتا ہے

فاصلہ کچھ نہیں ہے دونوں میں

بیچ میں بس زمانہ پڑتا ہے

لاکھ حیلے بہانے ہوں پھر بھی

وہ بلائے تو جانا پڑتا ہے

کافری بھیک میں نہیں ملتی

خود پہ ایمان لانا پڑتا ہے


عدنان نصیر

No comments:

Post a Comment