آتے جاتے کو آنا پڑتا ہے
راہ میں آستانہ پڑتا ہے
تان لی ہے کماں غزالوں پر
دیکھیے کب نشانہ پڑتا ہے
فاصلہ کچھ نہیں ہے دونوں میں
بیچ میں بس زمانہ پڑتا ہے
لاکھ حیلے بہانے ہوں پھر بھی
وہ بلائے تو جانا پڑتا ہے
کافری بھیک میں نہیں ملتی
خود پہ ایمان لانا پڑتا ہے
عدنان نصیر
No comments:
Post a Comment