قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں
میں شاعر ہوں محبت کا محبت جانتا ہوں
زباں بے باک ہے ساری کہانی کھول دے گی
میرے سر کو قلم کر دو، حقیقت جانتا ہوں
میری تو خاک بھی احساس سے سینچی گئی ہے
مجھے پہچان رشتوں کی مت بتا، میں جانتا ہوں
تجھےغیّور لوگوں سے تحفظ دے رہے ہیں
تیرا قانون اور تیری سہولت جانتا ہوں
میں شاہد ہوں میری تخلیق میرے سامنے ہے
وجودِ خاک میں ہونے کی عظمت جانتا ہوں
شبیر شاہد مہروی
No comments:
Post a Comment