Sunday, 11 September 2022

قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں

 قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں

میں شاعر ہوں محبت کا محبت جانتا ہوں

زباں بے باک ہے ساری کہانی کھول دے گی

میرے سر کو قلم کر دو، حقیقت جانتا ہوں

میری تو خاک بھی احساس سے سینچی گئی ہے

مجھے پہچان رشتوں کی مت بتا، میں جانتا ہوں

تجھےغیّور لوگوں سے تحفظ دے رہے ہیں

تیرا قانون اور تیری سہولت جانتا ہوں

میں شاہد ہوں میری تخلیق میرے سامنے ہے

وجودِ خاک میں ہونے کی عظمت جانتا ہوں


شبیر شاہد مہروی

No comments:

Post a Comment