درد سینے میں ہم نے ہیں پالے ہوئے
اور زباں پر پڑے اپنی تالے ہوئے
پہلے توڑی گئیں، پھر نبھائیں گئیں
نسبتوں میں کچھ ایسے حلالے ہوئے
جی رہی ہوں بظاہر سکوں سے مگر
دل دروں میں ہوں طوفاں سنبھالے ہوئے
دیر تھی وہ مبارک قدم پڑنے کی
پھر جہاں میں تھے کیا کیا اجالے ہوئے
ہم کو ٹھوکر پہ رکھا زمانے نے ہے
تیرے دل سے بھی ہیں ہم نکالے ہوئے
ٹاس کر کے تجھے جیتنا ہے ہمیں
ہم ہوا میں ہیں سکہ اچھالے ہوئے
تنزیلہ مہروی
No comments:
Post a Comment