Monday, 5 July 2021

آہ و فغاں عبث تھا غمخوار تک نہ پہنچا

 آہ و فغاں عبث تھا غمخوار تک نہ پہنچا

نالہ مِرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

صیاد رو رہا ہے اس کی خبر بھی لیجے

تیرا فریب کیونکر یلغار تک نہ پہنچا

جالا لگا دیا تھا مکڑی نے اس دہن پر

باعث اسی کے دشمن پھر غار تک نہ پہنچا

حائل تھی راستے میں مشکل قدم قدم پر

صبح کا بُھولا شب کو گھر بار تک نہ پہنچا

مجرم کی موت قصداً تھی ہاتھ میں ہمارے

وہ مر چکا تھا خود سر سُوئے دار تک نہ پہنچا

پڑھتا رہا تھا قاری گزری حکایتوں کو

انداز تک تو پہنچا افکار تک نہ پہنچا

کھوجا جہان سارا خود کو بلند کر کے

اقبال کے مگر میں اسرار تک نہ پہنچا

کرتا رہا ہوں اب تک امن و اماں کی کوشش

پیغام میرا پھر بھی اغیار تک نہ پہنچا

سوز و گداز اپنے من میں رہا پنپتا

حرص و ہوس تھی ہر سُو، سنسار تک نہ پہنچا


تنزیلہ مہروی

No comments:

Post a Comment