Monday, 5 July 2021

محفل میں رات رات اجالا اسی کا ہے

 محفل میں رات رات اجالا اسی کا ہے

ساغر کی گردشوں میں حوالا اسی کا ہے

اس رنگ چور نے تو دھنک کو چُرا لیا

آیا ہے چاندنی میں تو ہالا اسی کا ہے

ہم تو اکیلے روز اُلجھتے ہیں خواب سے

کچھ بوجھ زندگی کا سنبھالا اسی کا ہے

در در بھٹکتے رہنے کی عادت نہیں مگر

محفل سے یہ غریب نکالا اسی کا ہے

عارف شمیم ساتھ چلیں رات ہو گئی

رستے میں چاند تارا اُچھالا اسی کا ہے


سید عارف

No comments:

Post a Comment