اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا
یہ راہِ عشق مِرا حوصلہ ہی طے کرے گا
شب سیاہ کے دامن میں ہیں گُہر کیا کیا
نصیب والے! تِرا رتجگا ہی طے کرے گا
سمندروں سے مہِ چار دہ کا کھیل ہے کیا
کوئی کھلاڑی کوئی مہ لقا ہی طے کرے گا
ہمارا دل ہے کسی کام کا کہ ناکارہ
یہ امر آج کہ کل دلربا ہی طے کرے گا
ہیں شیشہ کش ہمیں کیا کام کارِ دنیا سے
یہ راہِ سخت کوئی دوسرا ہی طے کرے گا
جو حال مست ہیں گم کردہ راہ بھی انہیں کیا
کہ روڈ میپ کوئی دوسرا ہی طے کرے گا
تمام شہر کی جب بے حِسی ہو سکۂ وقت
تو مول تول کوئی مسخرہ ہی طے کرے گا
یہ طے ہوا ہے کہ شعر و ادب کے پیمانے
ہمارے شہر کا اک یک فنا ہی طے کرے گا
مجھے ہلاک کیا کس نے اور کیوں کس وقت
یہ سب معاملہ روزِ جزا ہی طے کرے گا
تحسین فراقی
No comments:
Post a Comment