Monday, 5 July 2021

تمہارے ماتھے پہ بکھرے بالوں کا چاند سا جو بنا ہوا ہے

 ماتھے پہ بکھرے بالوں کا چاند 


تمہارے ماتھے پہ بکھرے بالوں کا

چاند سا جو بنا ہوا ہے

اسی کے سائے میں

عمر ساری بِتائی جائے

ذرا اگر کم ہو روشنی تو

تمہارے بالوں کو پھر سے رُخ پہ

بکھیرا جائے

کہ چاند چمکے

تمہاری آنکھوں کی دلکشی پہ

یہ شاعرات اتنی نظمیں لکھیں

کہ لکھتے لکھتے ہی تھک سی جائیں

تمہارے ہونٹوں کی اک ہنسی پہ

کئی زمانوں تلک کئی لوگ رقص باندھیں


اقراء عافیہ

No comments:

Post a Comment