ماتھے پہ بکھرے بالوں کا چاند
تمہارے ماتھے پہ بکھرے بالوں کا
چاند سا جو بنا ہوا ہے
اسی کے سائے میں
عمر ساری بِتائی جائے
ذرا اگر کم ہو روشنی تو
تمہارے بالوں کو پھر سے رُخ پہ
بکھیرا جائے
کہ چاند چمکے
تمہاری آنکھوں کی دلکشی پہ
یہ شاعرات اتنی نظمیں لکھیں
کہ لکھتے لکھتے ہی تھک سی جائیں
تمہارے ہونٹوں کی اک ہنسی پہ
کئی زمانوں تلک کئی لوگ رقص باندھیں
اقراء عافیہ
No comments:
Post a Comment