Sunday, 9 October 2016

عیب بھی تیرے ہنر لگتے ہیں

عیب بھی تیرے ہنر لگتے ہیں
تیری فرقت کا ثمر لگتے ہیں
کل جو قدموں میں بچھے جاتے تھے
اب وہ سائے بھی شجر لگتے ہیں 
وہ اڑتے پھرتے ہیں، حیرت کیا ہے
چیونٹیوں کے بھی تو پر لگتے ہیں 
پی گئیں کتنے سمندر صدیاں
اب بھی دریا ہی امر لگتے ہیں 
ایک سورج ہی تو گہنایا ہے
لوگ کیوں خاک بَسَر لگتے ہیں 
جل رہا ہے کوئی گلشن شاید
اشک آنکھوں میں شرر لگتے ہیں 
جامِ جَم تھے جو مِرے دوست کبھی
حادثہ ہے کہ خبر لگتے ہیں 
ہم جہاں رہتے ہیں وہ دشت، وہ گھر
دشت لگتے ہیں نہ گھر لگتے ہیں 
راستے بند ہیں سارے جوہرؔ
پھر بھی وہ راہگزر لگتے ہیں 

جوہر میر 

No comments:

Post a Comment