دعا قبول ہوئی بادشہ سلامت کی
عدو کی فوج کے سالار نے بغاوت کی
مِرے بدن پہ رواں دجلہ و فرات بھی تھے
مگر لبوں پہ مِرے پیاس تھی قیامت کی
تمام نخلِ ثمردار اکھڑ گئے جڑ سے
ہمارے شعر میں آباد ہے جہانِ طلسم
ہماری طرز میں اک شان ہے روایت کی
میں کتنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈ سکتا ہوں
طویل ہوتی ہے کتنی یہ رات فرقت کی
ہماری روح میں نشہ ہے تیرے جلوؤں کا
ہماری آنکھوں میں ہے روشنی بھی حیرت کی
رفیق راز
No comments:
Post a Comment