ابھی سے کیسے کہوں تم کو بیوفا صاحب
ابھی تو اپنے سفر کی ہے ابتدا صاحب
نہ جانے کتنے لقب دے رہا ہے دل تم کو
حضور، جان وفا، اور ہم نوا صاحب
تمہاری یاد میں تارے شمار کرتی ہوں
کتابِ زیست کا عنوان بن گئے ہو تم
ہمارے پیار کی دیکھو یہ انتہا صاحب
رہِ وفا میں ذرا احتیاط لازم ہے
ہر ایک گام پہ ہوتا ہے حادثہ صاحب
سیاہ رات میں مہتاب بن کے آ جاؤ
یہ اندراؔ کے لبوں پہ ہے التجا صاحب
اندرا ورما
No comments:
Post a Comment