عجیب خامشی ہے، غُل مچاتی رہتی ہے
یہ آسمان ہی سر پر اٹھاتی رہتی ہے
کِیا ہے عشق تو ثابت قدم بھی رہنا سیکھ
میاں! یہ ہجر کی آفت تو آتی رہتی ہے
ڈرو نہیں یہ کوئی سانپ زیرِ کاہ نہیں
وہ اک نگاہ بھی نیزے سے کم نہیں یعنی
ہمارے خونِ جگر میں نہاتی رہتی ہے
قدم بھی خاک پہ کرتے ہیں کچھ نہ کچھ تحریر
ہوا کی موج بھی اس کو مٹاتی رہتی ہے
رفیق راز
No comments:
Post a Comment