تکمیل
وہ نازک تن
لچکتی جھومتی ڈالی
کھلنڈری سی
جسے بس کھیلنا، اٹھکیلیاں کرنا ہی بھاتا تھا
بہت ناداں تھی اپنے اس لڑکپن کی بلوغت میں
یہ سوچا تک نہیں تھا اس نے آخر زندگی کیا ہے
کسے تکمیل کہتے ہیں کہ جینے کا کوئی
مقصد بھی ہے آخر؟
یکایک اک روپیلی صبح کے جھلمل اجالوں میں
لچکتی جھومتی ڈالی پہ اک رنگین شگوفہ لہلہا اٹھا
گلابی نرم ریشم سا یہ کیسا معجزہ ہے؟
پروین شیر
No comments:
Post a Comment