Tuesday, 3 August 2021

وہ نازک تن لچکتی جھومتی ڈالی

 تکمیل


وہ نازک تن

لچکتی جھومتی ڈالی

کھلنڈری سی

جسے بس کھیلنا، اٹھکیلیاں کرنا ہی بھاتا تھا

بہت ناداں تھی اپنے اس لڑکپن کی بلوغت میں

یہ سوچا تک نہیں تھا اس نے آخر زندگی کیا ہے

کسے تکمیل کہتے ہیں کہ جینے کا کوئی

مقصد بھی ہے آخر؟

یکایک اک روپیلی صبح کے جھلمل اجالوں میں

لچکتی جھومتی ڈالی پہ اک رنگین شگوفہ لہلہا اٹھا

گلابی نرم ریشم سا یہ کیسا معجزہ ہے؟


پروین شیر

No comments:

Post a Comment