تِرے نہ رہنے سے اک تو نہیں رہے گا نا
یہ کاروبارِ جہاں تو یہیں رہے گا نا
فراقِ روح و بدن سے فنا نہیں لازم
الگ الگ بھی یہ جوڑا کہیں رہے گا نا
بسا کے دل میں تِرا پیار مطمئن ہوں میں
مکاں رہے نہ رہے پر مکیں رہے گا نا
دلوں کو پھیرنے والے مجھے تسلی دے
یہ دل، جو آج حزیں ہے، حزیں رہے گا نا
دلِ حزیں میں تِرے ساتھ کا مہاجر ہوں
تو میرے ساتھ دمِ واپسیں رہے گا نا
ہمارا غم کسی دل میں ٹھکانہ کر لے گا
کوئی تو اس کی بدولت غمیں رہے گا نا
ہمارے بعد ہمارا علم اٹھانےکو
ہمارے جیسا کوئی تو کہیں رہےگا نا
رہے گا ظلم بہت دیر تک مگر آخر
نہیں رہے گا، کبھی تو نہیں رہے گا نا
شاہد ریاض
No comments:
Post a Comment