Tuesday, 3 August 2021

متوجہ تری جانب ہوا اب من میرا

 متوجہ تِری جانب ہوا، اب من میرا

شہر کا شہر ہوا جاتا ہے دشمن میرا

دولت غم ہے، مُصلا ہے، خیال جاناں

اب نہ آون ہے کہیں اور نہ جاون میرا

دوست احباب نے منہ موڑ لیا ہے مجھ سے

پھونک ڈالا ہے مِرے گھر ہی نے خرمن میرا

کل کے بچے بھی ہوئے جاتے ہیں میرے ناصح

اس بڑھاپے سے بہت خوب تھا بچپن میرا

جیٹھ اور ہاڑ سرکتے نہیں میرے سر سے

اب کے بھادوں ہے مِرا یار، نہ ساون میرا

دینے والے نے دیا کتنے برس کا بَن باس

میری سِیتا کو بھگا لے گیا راون میرا

اب تکلف ہے انہیں لیتے ہوئے ایک سلام

گھنٹوں گھنٹوں جو سنا کرتے تھے بھاشن میرا

آہ، اب دوست تبسم کے روادار نہیں

تار تار ان کو نظر آتا ہے دامن میرا

کیا مجھے خارج اسلام کریں گے مفتی؟

نام اچھوتوں میں لکھیں گے کیا برہمن میرا؟

کتنے کم ظرف تھے خود میرے قبیلے والے

چاک کرنے لگے بازار میں دامن میرا

رو رعایت، نہ مروت، نہ کوئی پاس لحاظ

اتنی پستی میں تو گرتا نہیں دشمن میرا

کون دنیا میں بشر ہو گا خطا سے خالی

بیچتے پھرتے ہیں کس واسطے منجن میرا

میرے ظاہر سے شناسائی کا دعوی کر کے

میری نیت پہ شبہ کرتا ہے درپن میرا

زندگی میں نے گزاری ہے خوشی میں جس کی

موت لے جائے اسی کے لیے تن من میرا

یاد آتے ہیں مجھے کعب، مرارہ و ہلال

جن کی الفت سے نہاں خانہ ہے روشن میرا

میرے اللہ! سوا تیرے کوئی کیا جانے

داغ ہیں کتنے، کہاں پاک ہے دامن میرا

اجتہادات میں اغلاط کا امکان رکھو

غلطیوں پر بھی دئیے اجر، وہ ساجن میرا

مجھ کر محروم دعا رکھتے ہیں یہ قبر پرست

بعد مرنے کے کریں گے یہی درشن میرا

میں ہوں توحید کا داعی، مِری عزت رکھ لے

نہ بنے شرک کا مرکز کبھی مدفن میرا


خلیل الرحمٰن چشتی

No comments:

Post a Comment