محبت کے حوالے ڈھونڈتا ہے
اندھیروں میں اجالے ڈھونڈتا ہے
خدا جانے وہ کیسا باؤلا ہے
حرم میں مے پیالے ڈھونڈتا ہے
مسافر دو قدم چل کر پریشان
کہ اپنے پا کے چھالے ڈھونڈتا ہے
سمندر میں تلاشیں تو بہت ہیں
خزانے وہ نرالے ڈھونڈتا ہے
رہے تا ابد قائم رازداری
خدا کچھ ایسے تالے ڈھونڈتا ہے
فیصل فہمی
No comments:
Post a Comment