Tuesday, 3 August 2021

محبت کے حوالے ڈھونڈتا ہے

 محبت کے حوالے ڈھونڈتا ہے

اندھیروں میں اجالے ڈھونڈتا ہے

خدا جانے وہ کیسا باؤلا ہے

حرم میں مے پیالے ڈھونڈتا ہے

مسافر دو قدم چل کر پریشان

کہ اپنے پا کے چھالے ڈھونڈتا ہے

سمندر میں تلاشیں تو بہت ہیں

خزانے وہ نرالے ڈھونڈتا ہے

رہے تا ابد قائم رازداری

خدا کچھ ایسے تالے ڈھونڈتا ہے


فیصل فہمی

No comments:

Post a Comment