Friday, 7 October 2016

اٹھو کہ حشر نہ کر دے یہاں بپا کوئی

اٹھو کہ حشر نہ کر دے یہاں بپا کوئی
مٹا رہا ہے محبت کا سلسلہ کوئی
عجب نہیں کوئی چنگاریوں کو سلگا دے 
فتن کا دور ہے اس میں نہیں پتا کوئی 
یوں اٹھ رہا ہے تعفن سیاسی لاشوں سے 
کہ جیسے چار سُو پھیلے بری وبا کوئی
اندھیرے اور نہ بڑھ جائیں، اس لیے اب تو
یہ لازمی ہے کے روشن کرو دِیا کوئی
وہ چاہتے ہیں کہ شیرازہ منتشر کر دیں
رہے نہ آپسی قربت کا سلسلہ کوئی
ہے ان کی سوچ کہ فرسودگی، کریں قائم
وہ کام جس میں نہ انساں کا ہو بھلا کوئی
قوی گماں ہے کہ ہم وحشتوں کے دور میں ہیں
جنوں کے پیچھے یقیناً ہے مدعا کوئی
ہیں بے لگام زبانیں اب اس قدر ان کی
یہ خوف ہے کہ نہ ہو جائے حادثہ کوئی
بنا ہوا ہے تعلق جو کتنی صدیوں سے
وہ چاہتے ہیں، ہو آپس میں فاصلہ کوئی
انہیں تو چاہیے تکمیل اپنے مقصد کی
نہیں ہے ان میں ذرا سی بھی اب حیا کوئی
امیر خود ہو مخرّب، تو مجرموں کیلئے
کرے گا کون تعین بھلا سزا کوئی
یقین ہے مجھے ارشادؔ، وقت بدلے گا
ستم کا دور سدا تو نہیں رہا کوئی

ارشاد دہلوی 

No comments:

Post a Comment