اٹھو کہ حشر نہ کر دے یہاں بپا کوئی
مٹا رہا ہے محبت کا سلسلہ کوئی
عجب نہیں کوئی چنگاریوں کو سلگا دے
فتن کا دور ہے اس میں نہیں پتا کوئی
یوں اٹھ رہا ہے تعفن سیاسی لاشوں سے
اندھیرے اور نہ بڑھ جائیں، اس لیے اب تو
یہ لازمی ہے کے روشن کرو دِیا کوئی
وہ چاہتے ہیں کہ شیرازہ منتشر کر دیں
رہے نہ آپسی قربت کا سلسلہ کوئی
ہے ان کی سوچ کہ فرسودگی، کریں قائم
وہ کام جس میں نہ انساں کا ہو بھلا کوئی
قوی گماں ہے کہ ہم وحشتوں کے دور میں ہیں
جنوں کے پیچھے یقیناً ہے مدعا کوئی
ہیں بے لگام زبانیں اب اس قدر ان کی
یہ خوف ہے کہ نہ ہو جائے حادثہ کوئی
بنا ہوا ہے تعلق جو کتنی صدیوں سے
وہ چاہتے ہیں، ہو آپس میں فاصلہ کوئی
انہیں تو چاہیے تکمیل اپنے مقصد کی
نہیں ہے ان میں ذرا سی بھی اب حیا کوئی
امیر خود ہو مخرّب، تو مجرموں کیلئے
کرے گا کون تعین بھلا سزا کوئی
یقین ہے مجھے ارشادؔ، وقت بدلے گا
ستم کا دور سدا تو نہیں رہا کوئی
ارشاد دہلوی
No comments:
Post a Comment