زمین کی سمت سفر پر نکل بھی سکتا ہے
پہاڑ برف کا پگھلے تو چل بھی سکتا ہے
اسے یقین دلانے سے کچھ نہیں ہو گا
سفر سے پہلے ارادہ بدل بھی سکتا ہے
ابھی تو وقت کا پنچھی ہے قید میں اپنی
یہ سا نحہ ہے کہ بخشے بہار نے کانٹے
خزاں نصیب کا موسم بدل بھی سکتا ہے
نہ دیکھ اتنی حقارت سے ہم کو زہرہ جبیں
چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے
قرارِ جاں ہے خلشؔ اب مگر خیال رہے
قرار روگ کی صورت بدل بھی سکتا ہے
خلش بجنوری
No comments:
Post a Comment