تمہارے بعد مجھ کو زندگی برباد کر دے گی
گزر جاۓ گی جتنی ہے مگر ناشاد کر دے گی
یہ دنیا چین سے مجھ کو بھلا رہنے کہاں دے گی
ستم کوئی نہ کوئی اک نیا ایجاد کر دے گی
یہ کرنا بات دیواروں سے تنہائی میں چھپ چھپ کر
یہ شوریدہ سری، اور ڈھونڈنا ہر موڑ پر تجھ کو
میری دیوانگی اک دن کوئی افتاد کر دے گی
تجھے کچھ یاد ہے اے دل! کہا تھا میں نے یہ الفت
تجھے برباد کردے گی،۔۔ ارے برباد کر دے گی
کٹے گی خوب ہی تو رات خود سے باتیں کرنے میں
تمہاری یاد جب تنہائیاں آباد کر دے گی
زباں بندی پہ بس تو ہے مگر اس سے بھی کیا حاصل
تڑپ دل کی بیاں چہرے کی ہر رُوداد کر دے گی
خلشؔ خوش فہم ہو جو غم کو دو روزہ سمجھتے ہو
غموں سے موت ہی اک دن تمہیں آزاد کر دے گی
خلش بجنوری
No comments:
Post a Comment