کس طرف جائیں یہاں سے راستہ کوئی نہیں
بے حِسوں کی بھیڑ ہے اور ہمنوا کوئی نہیں
اپنی اپنی خامیاں تسلیم سب کر لیں اگر
مسلکوں کا، درمیاں پھر مسئلہ کوئی نہیں
بند سارے پیشوا ہیں اپنے اپنے خول میں
اپنی بربادی کے ذمہ دار ہم خود ہی تو ہیں
کیوں نہیں تسلیم کرتے، تیسرا کوئی نہیں
بھولتے ہی جا رہے ہیں اپنی ہم تاریخ کو
جس طرح اجداد سے اب واسطہ کوئی نہیں
ڈھو رہے سب اکیلے اپنے اپنے بوجھ کو
اب کسی کو بھی کسی کا آسرا کوئی نہیں
کانپ جاتے تھے کبھی اغیار اپنے سامنے
اب کسی پر بھی ہمارا دبدبہ کوئی نہیں
ہو گئے ہیں کون سے موذی مرض میں مبتلا
روگ آخر کیا ہے یہ، جس کی دوا کوئی نہیں
ہے اصولوں پر ہی قائم اس جہاں کا کل نظام
اور ہم ایسے ہیں جیسے ضابطہ کوئی نہیں
سچ بیاں کرتا ہوں، یہ ارشادؔ ہے عادت مِری
دیکھ لینا بات اس میں ناروا کوئی نہیں
ارشاد دہلوی
No comments:
Post a Comment