جب کبھی تجھ کو خیالات میں لے آتا ہوں
جانے کیوں خود ہی پریشان سا ہو جاتا ہوں
کیا گزرتی ہے مِرے دل پہ، بتاؤں کس کو
جیسے مجرم ہوں، یہی سوچ کہ گھبراتا ہوں
دل تو کہتا ہے کہ آنکھوں میں سما جاؤں تِری
تُو مِرے فکر و خیالات میں رہتی ہے، مگر
سوچ کر میں کسی انجام سے ڈر جاتا ہوں
جیسی دنیا ہے تِری،۔ ویسا ہی سنسار مِرا
وصل ممکن ہی نہیں، یہ تجھے سمجھاتا ہوں
تجھ کو معلوم ہے مجبوریاں میری کیا ہیں
میں حدیں دیکھ کے خود تیری لرز جاتا ہوں
میں نہیں چاہتا کردار پہ دھبّہ اپنے
اور تجھ کو بھی میں پاکیزہ سِوا پاتا ہوں
تیری نگری ہے الگ میرا بھی قریہ ہے جدا
تُو کسی کی، میں کہیں اور گِنا جاتا ہوں
کیسے چاہوں گا تُو دہلیز حیا کی لانگھے
بس یہی سوچ کے تو، تجھ سے میں کتراتا ہوں
جب کوئی حق ہی نہیں خواب سہانے دیکھیں
اس لئے گفتِ محبت سے میں گھبراتا ہوں
دوست بن جائیں، چلیں زیست سنواریں اپنی
میں بھی باظرف ہوں تجھ میں بھی حیا پاتا ہوں
ارشاد دہلوی
No comments:
Post a Comment