تُو پشیماں نہ ہو میں شاد ہوں ناشاد نہیں
زندگی تیرا کرم ہے، تِری بے داد نہیں
وہ صنم خانۂ دل ہو کہ گزرگاہِ خیال
میں نے تجھ کو کہیں دیکھا ہے مگر یاد نہیں
دیکھ ہے اے خاکِ پریشانئ خاطر میری
ڈھونڈتی پھرتی ہیں جانے مِری نظریں کس کو
ایسی بستی میں جہاں کوئی بھی آباد نہیں
کب ہمیں اپنی اداسی کی خبر تھی اے زیبؔ
مسکرائے ہیں تو دیکھا ہے کہ دل شاد نہیں
زیب غوری
No comments:
Post a Comment