Thursday, 10 November 2016

تو پشیماں نہ ہو میں شاد ہوں ناشاد نہیں

تُو پشیماں نہ ہو میں شاد ہوں ناشاد نہیں
زندگی تیرا کرم ہے، تِری بے داد نہیں
وہ صنم خانۂ دل ہو کہ گزرگاہِ خیال
میں نے تجھ کو کہیں دیکھا ہے مگر یاد نہیں
دیکھ ہے اے خاکِ پریشانئ خاطر میری
تُو نے سمجھا تھا کہ تجھ سا کوئی برباد نہیں
ڈھونڈتی پھرتی ہیں جانے مِری نظریں کس کو
ایسی بستی میں جہاں کوئی بھی آباد نہیں
کب ہمیں اپنی اداسی کی خبر تھی اے زیبؔ
مسکرائے ہیں تو دیکھا ہے کہ دل شاد نہیں

زیب غوری

No comments:

Post a Comment