بدن پر ٹانک کر تارے اڑایا جا رہا ہے
مجھے آخر پرندہ کیوں بنایا جا رہا ہے
جہاں پر ختم ہوتی ہے سمے کی راجدھانی
بدن ٹھہرا ہوا ہے،۔ اور سایا جا رہا ہے
میں سویا بھی نہیں ہوں اور سپنا دیکھتا ہوں
نظر آتی نہیں ہے بولنے والے کی صورت
سنائی دے رہا ہے جو سنایا جا رہا ہے
اچانک اس صدا سے کانپ اٹھتی ہیں زمینیں
سنبھل جاؤ! پہاڑوں کو ہلایا جا رہا ہے
مجھے مٹی کا چہرہ اور آنکھیں دے کے بھیجا
کہا، یہ صبر تیرا آزمایا جا رہا ہے
کہانی ختم ہونے کی نشانی ہے یہ لمحہ
دعا کو زرد پتوں میں چھپایا جا رہا ہے
دانیال طریر
No comments:
Post a Comment