Wednesday, 9 November 2016

بدن پر ٹانک کر تارے اڑایا جا رہا ہے

بدن پر ٹانک کر تارے اڑایا جا رہا ہے
مجھے آخر پرندہ کیوں بنایا جا رہا ہے
جہاں پر ختم ہوتی ہے سمے کی راجدھانی
بدن ٹھہرا ہوا ہے،۔ اور سایا جا رہا ہے
میں سویا بھی نہیں ہوں اور سپنا دیکھتا ہوں
زمیں کو آسمانوں پر بچھایا جا رہا ہے
نظر آتی نہیں ہے بولنے والے کی صورت
سنائی دے رہا ہے جو سنایا جا رہا ہے
اچانک اس صدا سے کانپ اٹھتی ہیں زمینیں
سنبھل جاؤ! پہاڑوں کو ہلایا جا رہا ہے
مجھے مٹی کا چہرہ اور آنکھیں دے کے بھیجا
کہا، یہ صبر تیرا آزمایا جا رہا ہے
کہانی ختم ہونے کی نشانی ہے یہ لمحہ
دعا کو زرد پتوں میں چھپایا جا رہا ہے

دانیال طریر

No comments:

Post a Comment