Wednesday, 9 November 2016

کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھا

کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
بدن میں لوٹ آنے کا ارادہ ہی نہیں تھا
شکم کی آگ نے بیلوں کو ہنکانا سکھایا
وگرنہ، ہل چلانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
وہ اپنے بھیڑیوں کو سیر پر لایا تھا بَن میں
غزالوں کو ڈرانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
کہا تھا طائروں سے پیڑ کو دیمک لگی ہے
کسی کو آزمانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
خبر کب تھی کہ آنکھیں اوس برسانے لگیں گی
تجھے ورنہ جگانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
میں تیرے ساتھ اڑتا پھر رہا تھا آسماں میں
خدا کو بھول جانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
صدی بھر میں تمناؤں کو بال و پر دیے تھے
مگر ان کو اڑانے کا ارادہ ہی نہیں تھا

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment