کھنڈر یہ پھر بسانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
بدن میں لوٹ آنے کا ارادہ ہی نہیں تھا
شکم کی آگ نے بیلوں کو ہنکانا سکھایا
وگرنہ، ہل چلانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
وہ اپنے بھیڑیوں کو سیر پر لایا تھا بَن میں
کہا تھا طائروں سے پیڑ کو دیمک لگی ہے
کسی کو آزمانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
خبر کب تھی کہ آنکھیں اوس برسانے لگیں گی
تجھے ورنہ جگانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
میں تیرے ساتھ اڑتا پھر رہا تھا آسماں میں
خدا کو بھول جانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
صدی بھر میں تمناؤں کو بال و پر دیے تھے
مگر ان کو اڑانے کا ارادہ ہی نہیں تھا
دانيال طرير
No comments:
Post a Comment