ہم علامت تھے کبھی بحر میں طغیانی کی
اب ہیں تصویر فقط بے سر و سامانی کی
ہم نے کچھ خواب، کچھ اندیشے یہاں بوئے تھے
اور اب چاروں طرف فصل ہے حیرانی کی
قریۂ دل، جہاں دریائے تمنا تھا رواں
اس نے اک بار کہا تھا کہ چلو مر جائیں
میں ہی بزدل تھا کہ مانی نہیں مر جانی کی
وہ تو ضدی تھی، کسی آمرِ مطلق کی طرح
اور کم بخت نے مرنے میں بھی من مانی کی
اب تو خود سے بھی ملاقات نہیں کر پاتے
ایسی حالت کہاں ہو گی کسی زندانی کی
خود کو گر بیچ بھی آتے تو ہمیں ملتا کیا
بات عزت کی نہیں، بات ہے ارزانی کی
اس کو سودا کی طرح دیکھا ہے جن حالوں میں
بات وہ کہہ دوں، مگر بات ہے عریانی کی
اب خرابہ ہے یہ دل، پھول کبھی کھِلتے تھے
ہم نے خود ہی نہ حسنؔ اپنی نگہبانی کی
حسن عباس رضا
No comments:
Post a Comment