صدا دیتی ہیں گلیاں، اور اپنا گھر بُلاتا ہے
مجھے شہرِ تمنا کا ہر اک منظر بلاتا ہے
مِرے سینے میں کچھ دن سے مقیم اک شخص ہے ایسا
جو خود باہر نہیں آتا، مجھے اندر بلاتا ہے
عجب ضدی ہے، خود تو سائے میں رہتا ہے اور مجھ کو
شکست و ریخت اتنی ہو چکی ہے وقت کے ہاتھوں
کہ پھر اک بار مجھ کو میرا کوزہ گر بلاتا ہے
یہی ہے کاروبارِ جاں میں اب تک تجربہ اپنا
کہ دل جس کو صدائیں دے، اسی کو در بلاتا ہے
حسنؔ آؤ چلیں اس کوچۂ جاں میں، جہاں اب بھی
دریچے سے لگا کوئی، بہ چشمِ تر بلاتا ہے
حسن عباس رضا
No comments:
Post a Comment