Wednesday, 9 November 2016

ہمیشہ مجھ تک آنے کے بہانے ڈھونڈھ لیتا ہے

ہمیشہ مجھ تک آنے کے بہانے ڈھونڈھ لیتا ہے
مِرا ہمزاد میرے سب ٹھکانے ڈھونڈھ لیتا ہے
کسی دیوار سے لگ کر کبھی گِریہ نہیں کرتا
وہ رونے کیلئے بھی میرے شانے ڈھونڈھ لیتا ہے
مجھے، مجھ سے ملانے کیلئے میرے تعاقب میں
جہاں جاتا ہوں وہ آئینہ خانے ڈھونڈھ لیتا ہے
میں دل کی ساتویں تہہ میں چھپا لیتا ہوں یادوں کو
مگر وہ حیلہ گر میرے خزانے ڈھونڈھ لیتا ہے
میں ترکش میں پڑے اس تیر سے بچ کر کہاں جاؤں
جو چِلے پر نہ ہو پھر بھی نشانے ڈھونڈھ لیتا ہے
بھرے گھر میں جسے تنہائیوں کی شام ڈستی ہو
وہ طاقوں میں دھرے وعدے پرانے ڈھونڈھ لیتا ہے
حسنؔ میں نیند میں چلتے ہوۓ بھی کب بھٹکتا ہوں
کہ دل یاروں کے سارے آستانے ڈھونڈھ لیتا ہے

حسن عباس رضا 

No comments:

Post a Comment