Thursday, 9 December 2021

ہم شعر سناتے ہیں مفہوم تمہارا ہے

 ہم شعر سناتے ہیں مفہوم تمہارا ہے

گم کردۂ منزل ہیں معلوم تمہارا ہے

اوراق پریشاں ہیں نقاش کسے جانیں

بس حرف ہمارے ہیں مرقوم تمہارا ہے

یہ نغمۂ ہستی بھی منسوب تمہیں سے ہے

آہنگ تمہارا ہے،۔ منظوم تمہارا ہے

جو عشق سمجھ بیٹھے کب ان کو خبر ہو گی

ہر رنگ میں اک جلوۂ معصوم تمہارا ہے

جھولی میں فقیروں کی بخشی ہوئی دولت ہے

دل کا جو ستارہ ہے مقسوم تمہارا ہے

یہ قصۂ جاں یوں ہی مشہور نہیں ہوتا

لازم تو ہمارا تھا،۔ ملزوم تمہارا ہے

کیوں شہر کی گلیوں میں اذکار یہ رہتا ہے

مرحوم تمہارا تھا،۔ مرحوم تمہارا ہے


محمد خالد

No comments:

Post a Comment