Thursday, 9 December 2021

اپنے کچھ خواب بچانے کے لئے نکلا تھا

 اپنے کچھ خواب بچانے کے لیے نکلا تھا 

میں بھی اس گھر سے کمانے کے لیے نکلا تھا 

آج دیکھوں تو وہی چاروں طرف ہے میرے 

میں کہ جس غم کو بھلانے کے لیے نکلا تھا 

اس سے وابستہ پرندوں کی سکونت بھی تھی 

جس شجر کو میں گرانے کے لیے نکلا تھا 

میرے اپنے بھی مسائل تھے یقیناً اس میں 

لوگ سمجھے کہ زمانے کے لیے نکلا تھا 

زندگی کب تجھے سینے سے لگایا میں نے 

میں تو دستار بچانے کے لیے نکلا تھا 

راکھ دیکھی ہے تو پہچان ہوئی ہے اس کی 

گھر سے جو آگ بجھانے کے لیے نکلا تھا 

آج خود شہرِ خموشاں میں ہے سویا عاصم

جو بھی اوروں کو جگانے کے لیے نکلا تھا 


عاصم بخاری

No comments:

Post a Comment