اپنے کچھ خواب بچانے کے لیے نکلا تھا
میں بھی اس گھر سے کمانے کے لیے نکلا تھا
آج دیکھوں تو وہی چاروں طرف ہے میرے
میں کہ جس غم کو بھلانے کے لیے نکلا تھا
اس سے وابستہ پرندوں کی سکونت بھی تھی
جس شجر کو میں گرانے کے لیے نکلا تھا
میرے اپنے بھی مسائل تھے یقیناً اس میں
لوگ سمجھے کہ زمانے کے لیے نکلا تھا
زندگی کب تجھے سینے سے لگایا میں نے
میں تو دستار بچانے کے لیے نکلا تھا
راکھ دیکھی ہے تو پہچان ہوئی ہے اس کی
گھر سے جو آگ بجھانے کے لیے نکلا تھا
آج خود شہرِ خموشاں میں ہے سویا عاصم
جو بھی اوروں کو جگانے کے لیے نکلا تھا
عاصم بخاری
No comments:
Post a Comment