Thursday, 9 December 2021

ہم کاٹ دیں اپنا جسم اگر تم باقی پھر بھی رہتے ہو

 تم جیسا ہو کوئی تو مانیں بھی

یہ بات اب تلک تم سمجھے نہیں

ہم کیسے خود سے کہہ ڈالیں

جو اکثر تم کہہ دیتے ہو

ہم پیار تم سے کرتے نہیں

یہ رشتہ کیسے سمجھو گے

ہم تم کو سمجھا نہیں پائیں گے

فقط اتنا ہی کہتے ہیں

اک تم سے ہنسنا سیکھا ہے

اک تم سے جینا آتا ہے

اک ہار ابھی بھی ہماری ہے

اک تم سے جیتنا آتا نہیں

تم جسم نہیں، تم روح میں ہو

اک تم کو تو بسنا آتا ہے

ہم کاٹ دیں اپنا جسم اگر جاناں

تم باقی پھر بھی رہتے ہو


عندلیب سحرش

No comments:

Post a Comment