تم جیسا ہو کوئی تو مانیں بھی
یہ بات اب تلک تم سمجھے نہیں
ہم کیسے خود سے کہہ ڈالیں
جو اکثر تم کہہ دیتے ہو
ہم پیار تم سے کرتے نہیں
یہ رشتہ کیسے سمجھو گے
ہم تم کو سمجھا نہیں پائیں گے
فقط اتنا ہی کہتے ہیں
اک تم سے ہنسنا سیکھا ہے
اک تم سے جینا آتا ہے
اک ہار ابھی بھی ہماری ہے
اک تم سے جیتنا آتا نہیں
تم جسم نہیں، تم روح میں ہو
اک تم کو تو بسنا آتا ہے
ہم کاٹ دیں اپنا جسم اگر جاناں
تم باقی پھر بھی رہتے ہو
عندلیب سحرش
No comments:
Post a Comment