جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے
وہ جب دنیا سے جاتا ہے تو مالا مال جاتا ہے
سنبھل کر ہی قدم رکھنا بیابانِ محبت میں
یہاں سے جو بھی جاتا ہے بڑا بے حال جاتا ہے
کبھی بھوکے پڑوسی کی خبر تو لی نہیں اس نے
مگر کرنے وہ عمرہ اور حج ہر سال جاتا ہے
مناؤں ہر برس جشن ولادت کس لیے آخر
یہاں ہر سال میری عمر کا اک سال جاتا ہے
ہے دنیا تک ہی اپنی دسترس میں دولت دنیا
فقط ہمراہ اپنے نامۂ اعمال جاتا ہے
بنا دیکھے خدا کو مانتا ہوں اس لیے ساحل
کوئی تو ہے جو ہم کو روز دانہ ڈال جاتا ہے
ساحل قادری
No comments:
Post a Comment