Wednesday, 12 January 2022

پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیا

 پہلی نگاہ میں ہی وہ دل میں اتر گیا

پھر اس کے بعد دل میں جو کچھ تھا بکھر گیا

معلوم تو کرو وہ پری زاد کون ہے؟

آئینہ جس کو دیکھ کے اتنا نکھر گیا

وہ شخص جس پہ میں نے لٹا دی ہے زندگی

مہمان گھڑی بھر کا تھا، جانے کدھر گیا

پھر اس کے بعد کیا ہوا کیا کیا نہیں ہوا

بس تم کسی کے ہو گئے اور میں بکھر گیا

یہ بھی نہ دسترس میں تھا وہ بھی نہ تھا مِرا

قابو سے دل کبھی تو کبھی پھر جگر گیا

ظالم ہے تازہ دم میں پشیمان ہوں بہت

میرے لہو کے قطروں سے ظالم نکھر گیا

فیصل ہے خوف خود مجھے ایسے پتا چلا

دیکھا جو آئینہ تو میں خود سے ہی ڈر گیا


فیصل امتیاز

No comments:

Post a Comment