Wednesday, 12 January 2022

ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤں

 ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤں

ممکن ہے کہ موجوں کے ماتھے پہ ابھر جاؤں

تپتے ہوئے لمحوں کو سیراب تو کر جاؤں

اک موجِ صدا بن کر صحرا میں بکھر جاؤں

ہر سنگ ہے اک شیشہ ہر شیشہ ہے اک پتھر

اے شہرِ طلسم! آخر ٹھہروں کہ گزر جاؤں

لاؤ نہ اجالوں کو اس شہر کی سرحد تک

ایسا نہ ہو میں اپنے سائے سے ہی ڈر جاؤں

ہر سمت فضاؤں میں پتھراؤ کا عالم ہے

شیشے کا بدن لے کر جاؤں تو کدھر جاؤں

ہر شام مِرے دل میں دیتا ہے صدا کوئی

میں ڈوبتے سورج کے ہمراہ نہ مر جاؤں

روکے نہ اگر مجھ کو اس دشت کی تنہائی

عشرت میں ہواؤں کے پیکر میں اتر جاؤں


عشرت ظفر

No comments:

Post a Comment