Sometimes-it's-too-hard-to-breathe
زندگی
تمام دکھ ہے
حاصل کیا ہے؟
آگہی کا عذاب یا فقط رنجِ رائیگانی
جرم کیا تھا؟
اشرف المخلوقات ہونا
باہر تیز بارش ہو رہی تھی
اور اندر کا حبس بڑھتا جا رہا تھا
دکھ میں کا ساتھی ہے
یہ احساس کہ ہم وجود رکھتے ہیں
اپنے حوالے سے بہت سے تحفظات لاتا ہے
ہمارے کرب کا سبب احساسِ وجودیت ہے
وجود فریب ہے، وجود ہمارے ہونے کو
٭جسٹیفائی نہیں کر سکتا
کرب کا تعلق روح کے ساتھ ہے
معاشرے میں جو معاملات پیش آتے ہیں
وہ تو وجود کی سطح پر ہی ہوتے ہیں ناں؟
محسوسات تو روح کا خاصہ ہیں
وجود روح کا خمیازہ بھگتتا ہے
ہماری مہلت ختم ہو رہی ہے، کتنے بے بس ہیں ہم
ایسے ہی مر جائیں گے لا علم اور لا یعنی
خدا سے کہیں ہماری انگلی پکڑ لے
خدا تو روزِ ازل سے
ہماری انگلی پکڑ کر ہمیں چلنا سکھانا چاہتا ہے
یہ ہم ہیں جو فرار چاہتے ہیں
مگر وہ بھی خدا ہے
اس نے خدا ہونے کا نسخہ ہمارے اندر چھپایا ہوا ہے
بارش رک چکی تھی
انا کی گرد چھٹنے لگی تھی
عبداللہ سفیر
٭Justify
No comments:
Post a Comment