Wednesday, 12 January 2022

مجھ کو وقفِ دار کرو میں رسموں سے باغی ہوں

 مجھ کو وقف دار کرو

میں رسموں سے باغی ہوں

اس کی چاہت ہے کہ میں

خاموشی سے ظلم سہوں

دنیا کب کیا سوچے گی

کیوں ہر بات پہ یہ سوچوں

لازم ہے کیا، ہر صورت

رِیت رواج کے ساتھ چلوں

ماتا دیوی ہو کر بھی

پیروں کی جوتی ٹھہروں

مالا جپ جپ رام کی میں

خود کو سیتا پوز کروں

ضبط کی چادر اوڑھ کے میں

کیوں بدلوں تہذیبِ جنوں

ابنِ آدم ہے گر تُو

میں حوّا کی بیٹی ہوں

آ، تُو میرا ستّر ہو

میں تیری پوشاک بنوں


فرح گوندل

No comments:

Post a Comment