کام آئی یہاں نہ فن کاری
شہر سے کوچ کی ہے تیاری
کام تھا مسئلہ کبھی میرا
اب مِرا مسئلہ ہے بے کاری
یعنی کچھ مقصدِ حیات نہیں
اک علامت ہے گویا بے زاری
مردِ مومن کو اور شاہیں کو
نوکری چاہیۓ ہے سرکاری
ہے توازن، عدم توازن میں
خار میں دیکھیۓ گا گُلکاری
زندگی فلم ہے اگر مِرے دوست
میں نے بھی خوب کی اداکاری
چیز معیار کی ملے کیسے؟
آدمی ہی نہیں ہوں معیاری
ظلم آئین ہے اگر شاہا
فرض ہے مومنوں پہ غداری
نام اور کام میں تفاوت دیکھ
خوب ہے شاہ جی کی مکاری
خرم شاہ
No comments:
Post a Comment