مجھ کو دل سے بھی چاہتے ہیں آپ
ہاتھ اُن کا بھی تھامتے ہیں آپ
روگ بھی آپ کو نہیں کوئی
رات بھر پھر کیوں جاگتے ہیں آپ
ساری نفرت مِرے لیے، اُن کو
خواب میں بھی پُکارتے ہیں آپ
ساتھ مرنے کی بھی قسم کھائی
پیچھے پھر اُن کے بھاگتے ہیں آپ
مول کوئی نہیں محبت کا
پھر وفا اپنی بیچتے ہیں آپ
توڑ کر آئینۂ دل میرا
بیٹھ کر خود ہی جوڑتے ہیں آپ
کر کے مجھ سے دغا محبت میں
پھر وفا میری جانچتے ہیں آپ
ساتھ دے کر رقیب کا برسوں
پھر مجھے ہی پچھاڑتے ہیں آپ
فکر کوئی نہیں مجھے بھی خیر
آج کس کو نوازتے ہیں آپ
الیاس عاجز
No comments:
Post a Comment