Saturday, 12 March 2022

مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

 مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

سفر میں ہمسفر اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا

شکست فاش کا غم زندگی جینے سے بد تر ہے

جھکانے کی بجائے سر کٹا لیتے تو اچھا تھا

کبھی اشکوں پہ اتنا ضبط بھی اچھا نہیں ہوتا

یہ چشمہ پھر ضرر دے گا بہا لیتے تو اچھا تھا

بھلا کیا فائدہ اب قبر پہ آنسو بہانے سے

اگر ماں باپ کی پہلے دعا لیتے تو اچھا تھا

شکایت سے بھلا ساحل ہوا ہے فائدہ کس کا

غم دل گر ہنسی میں تم چھپا لیتے تو اچھا تھا 


ساحل قادری

No comments:

Post a Comment