Saturday, 12 March 2022

ہر گھڑی نجانے کیوں آس پاس رہتے ہو

 ہر گھڑی نجانے کیوں آس پاس رہتے ہو

تم عجیب موسم ہو بس اداس رہتے ہو

کچھ بھرم تو رکھنا ہے اپنے دل کی دھڑکن کا

تم مِرے نہیں لیکن میرے پاس رہتے ہو

میں تو ایک لڑکی ہوں قید میں محبت کی

تم کو کیا ہوا صاحب کیوں نراس رہتے ہو

ایک دن بچھڑنا ہے جانتی ہوں میں لیکن

تم ابھی سے کیوں آخر بد حواس رہتے ہو

کیا کوئی نئی لڑکی آ گئی ہے دفتر میں

آج کل زیادہ ہی خوش لباس رہتے ہو

حوصلہ نہیں مجھ کو تم کو یہ بتانے کا

جھیل جیسے نیناں میں مثل پیاس رہتے ہو


فرزانہ نیناں

No comments:

Post a Comment