ہر گھڑی نجانے کیوں آس پاس رہتے ہو
تم عجیب موسم ہو بس اداس رہتے ہو
کچھ بھرم تو رکھنا ہے اپنے دل کی دھڑکن کا
تم مِرے نہیں لیکن میرے پاس رہتے ہو
میں تو ایک لڑکی ہوں قید میں محبت کی
تم کو کیا ہوا صاحب کیوں نراس رہتے ہو
ایک دن بچھڑنا ہے جانتی ہوں میں لیکن
تم ابھی سے کیوں آخر بد حواس رہتے ہو
کیا کوئی نئی لڑکی آ گئی ہے دفتر میں
آج کل زیادہ ہی خوش لباس رہتے ہو
حوصلہ نہیں مجھ کو تم کو یہ بتانے کا
جھیل جیسے نیناں میں مثل پیاس رہتے ہو
فرزانہ نیناں
No comments:
Post a Comment