Saturday, 12 March 2022

سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھیجی ہے

 سانس لینے کے لیے تازہ ہوا بھیجی ہے

زندگی کے لیے معصوم دعا بھیجی ہے

میں نے بھیجی تھی گلابوں کی بشارت اس کو

تحفۃً اس نے بھی خوشبوئے وفا بھیجی ہے

میں تو قاتل تھا بری ہو کے بھی قاتل ہی رہا

مجھ کو انصاف نے جینے کی سزا بھیجی ہے

کتنے غم ہیں جو سر شام سلگ اٹھتے ہیں

چارہ گر تو نے یہ کس دکھ کی دوا بھیجی ہے

مرحلے اور بھی تھے جاں سے گزرنے کے لیے

کربلا کس نے پس کرب و بلا بھیجی ہے


حامد سروش

No comments:

Post a Comment