Saturday, 12 March 2022

میرے ہونٹوں پہ عجب آہ و فغاں رہنے دیا

 میرے ہونٹوں پہ عجب آہ و فغاں رہنے دیا 

اس نے فرقت میں بھی خاموش کہاں رہنے دیا 

تا کہ جذبات زدہ قیس نصیحت پکڑیں 

دشت والوں نے مِرا نام و نشاں رہنے دیا 

میں نے اظہار کے سب رستے مقفل کر کے 

جو بھی منظر تھا وہ دنیا پہ عیاں رہنے دیا 

کار تخلیق میں کوئی تو ضرورت ہو گی 

اس نے ایقان کے پردے میں گماں رہنے دیا 

مجھ کو آسانی نظر آتی تھی اس میں عاصم

عاشقی کر لی سبھی کار جہاں رہنے دیا 


عاصم بخاری

No comments:

Post a Comment