مسکراتے ہوئے سُرخ ہونٹوں تلے
جگمگائے تِرے موتیوں کی دمک
جب میں تھک ہار کے پاس آیا تِرے
ہار بانہوں کے ڈالے گلے میں مِرے
اپنے ہاتھوں مِرے بال بکھرا دیے
گدگدائے تِری چوڑیوں کی کھنک
مسکراتے ہوئے سرخ ہونٹوں تلے
اک مصور کی جیسے ہو تصویر تم
یا ہو جنت سے اتری کوئی حور تم
میری مشتاق نظروں سے شرماؤ تم
گورے گالوں پہ آئے گلابی چمک
مسکراتے ہوئے سرخ ہونٹوں تلے
جیسے مندر میں سونے کی اک مورتی
ہاتھ باندھے مقابل پجارن کھڑی
چاندی کی گھنٹیاں جب بجانے لگی
گنگنائے تِری پائلوں کی چھنک
مسکراتے ہوئے سرخ ہونٹوں تلے
دیکھو بارش کی بوندوں میں ٹھندی ہوا
مہکے خوش رنگ پھول ہے معطر فضا
یہ سہانا سماں بھی ادھورا لگا
یاد آئے تِرے بانکپن کی جھلک
مسکراتے ہوئے سرخ ہونٹوں تلے
جب ہو قوسِ قزح سے سجا آسماں
اور ہوں پھولوں پہ اڑتی ہوئی تتلیاں
تو تصور میں آتا ہے چہرہ تِرا
جھلملائے تِری اوڑھنی کی دھنک
مسکراتے ہوئے سرخ ہونٹوں تلے
عاطف علی
No comments:
Post a Comment