Tuesday, 11 May 2021

دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا

 دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا

میرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیا

ان کی محفل میں ہمارا نام کیسے آ گیا

آج ذکرِ گردشِ آیام کیسے آ گیا

دل سی شے نے کیسے رسمِ آرزو کر لی قبول

طائرِ افلاک زیرِ دام کیسے آ گیا

لوگ کہتے ہیں مسرت زندگی کا نام ہے

پھر یہ مجھ پر زیست کا الزام کیسے آ گیا

عشرت عہد گزشتہ کس طرح یاد آ گئی

ہاتھ میں آئینۂ ایام کیسے آ گیا

شیشۂ دل بسکہ نازک عشق کی مے تند و تیز

تم پہ الزام شکست جام کیسے آ گیا

فکر کے بادل جبین حسن پر احساس کیوں

یہ سحر کے وقت ذکر شام کیسے آ گیا


احساس مرادآبادی

No comments:

Post a Comment