دل سے دل کے واسطے پیغام کیسے آ گیا
میرے ہونٹوں پر تمہارا نام کیسے آ گیا
ان کی محفل میں ہمارا نام کیسے آ گیا
آج ذکرِ گردشِ آیام کیسے آ گیا
دل سی شے نے کیسے رسمِ آرزو کر لی قبول
طائرِ افلاک زیرِ دام کیسے آ گیا
لوگ کہتے ہیں مسرت زندگی کا نام ہے
پھر یہ مجھ پر زیست کا الزام کیسے آ گیا
عشرت عہد گزشتہ کس طرح یاد آ گئی
ہاتھ میں آئینۂ ایام کیسے آ گیا
شیشۂ دل بسکہ نازک عشق کی مے تند و تیز
تم پہ الزام شکست جام کیسے آ گیا
فکر کے بادل جبین حسن پر احساس کیوں
یہ سحر کے وقت ذکر شام کیسے آ گیا
احساس مرادآبادی
No comments:
Post a Comment