بدل کے بھیس وہ چہرہ کہاں کہاں نہ ملا
تلاش جس کی تھی وہ حسنِ جاوداں نہ ملا
کھڑا ہوں کب سے سرِ رہگزارِ وقت ندیم
میں جس کے ساتھ چلوں ایسا کارواں نہ ملا
خزاں گزر گئی لیکن گُلوں کے رنگ ہیں زرد
بہار کو صلۂ خون کشتگاں نہ ملا
کہاں سے ذہن میں چھپ چھپ کے وہم آتے ہیں
کبھی یقیں کو سراغِ رہِ گماں نہ ملا
میں اہلِ فکر کی بستی بھی روند آیا ہوں
کہیں کوئی غم ہستی کا رازداں نہ ملا
کُچل کے یاد کی لاشیں گُزر گیا غمِ دہر
میں ڈُھونڈھتا رہا زخموں کا بھی نشاں نہ ملا
اُتر کے دیکھ چُکا رنگ کے جزیروں میں
تِرے شباب کا وہ رنگِ ارغواں نہ ملا
احتشام حسین
No comments:
Post a Comment