Saturday, 15 May 2021

غم میں اک موج سر خوشی کی ہے

 غم میں اک موج سرخوشی کی ہے

ابتدا سی خود آگہی کی ہے

کسے سمجھائیں کون مانے گا

جیسے مر مر کے زندگی کی ہے

بجھیں شمعیں تو دل جلائے ہیں

یوں اندھیروں میں روشنی کی ہے

پھر جو ہوں اس کے در پہ ناصیہ سا

میں نے اے دل تِری خوشی کی ہے

میں کہاں اور دیار عشق کہاں

غم دوراں نے رہبری کی ہے

اور اُمڈے ہیں آنکھ میں آنسو

جب کبھی اس نے دلدہی کی ہے

قید ہے اور قید بے زنجیر

زلف نے کیا فسوں گری کی ہے

میں شکار عتاب ہی تو نہیں

مہرباں ہو کے بات بھی کی ہے

بزم میں اس کی بار پانے کو

دشمنوں سے بھی دوستی کی ہے

ان کو نظریں بچا کے دیکھا ہے

خوب چھپ چھپ کے میکشی کی ہے

ہر تقاضائے لطف پر اس نے

تازہ رسم ستم گری کی ہے


احتشام حسین

No comments:

Post a Comment