Friday, 14 May 2021

رسم ہی شہر تمنا سے وفا کی اٹھ جائے

 رسم ہی شہر تمنا سے وفا کی اٹھ جائے

اس طرح تو نہ کوئی اہلِ محبت کو ستائے

وادئ دل میں کئی راتوں سے سناٹا ہے

کاش بجلی ہی تِرے ابر ستم سے گر جائے

اپنی ذلت کی صلیب آپ لیے پھرنا ہے

یہ بڑا بوجھ محبت کے سوا کون اٹھائے

بر سر جنگ ہیں انوار سے ظلمات کے دیو

چاند راتوں کے اندھیرے میں کہیں ڈوب نہ جائے

یہ سمجھ لو کہ رگ جاں میں ہے زہراب جنوں

جب نگاہِ کرم و لطف سے بھی دل دکھ جائے

دشتِ امید میں جلتا ہے مِرے خوں کا چراغ

راہ منزل کی کہو میرے سوا کون دکھائے

بارش سنگ ملامت ہے خرد کا پتھراؤ

اپنے سر سے ہو جسے پیار مِرے ساتھ نہ آئے


احتشام حسین

No comments:

Post a Comment